Uncategorized

زمین کا مستقبل

زمین کا مستقبل

کلام مقدس کی ابتدائی آیات ہی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ابتدا میں زمین اور آسمان کو بنایا (پیدائش 1:1)

انسان کو پیدا کرکے زمین کو محکوم اور معمور کرنے کے لئے اس کے سپرد کردیا (پیدائش30،26/1)

لیکن انسان نے خدا کی حکم عدولی سے اس زمین کو گناہ سے معمور کرکے لعنتی کردیا۔ اپنے لئے درد اور نالہ اور مشقت کا دروازہ کھول دیا( پیدائش 3:17) اورنافرمانی کے سبب موت کا حقدار ٹھہرا۔

انسان اپنے تمام تر سعی اورکاوشوں،ریاضت اور تپسیا سے اپنے کھوئے ہوئے مقام کے حصول میں ناکام رہا۔لیکن خدا اپنی مخلوق کی کمزوری اور گناہ کے خلاف جنگ میں بے بسی سے غافل نہیں رہا۔ کیونکہ انسان نے گناہ کر کے زمین کو لعنت کا سبب ٹہھرایا لیکن انسان اتنی نیکی کرکے زمین کو لعنت سے چھڑا کر برکت کے وارث نہیں ٹھہراسکتا تھا۔ انسان کی سرزرشت میں گناہ بس چکا۔انسان اس قابل نہیں رہا کہ خود پر بھروسہ کرے کہ وہ کبھی بھی اس گناہ اور لعنت سے خلاصی پا سکے گا۔

لہذا خدای رحیم اور مہربان نے اپنی شفقت سے انسان کی مایوسی کاازالہ وعدوں سے کیا۔اور انسان کی امید کو دوبارہ زندہ کیا کہ زمین لعنت سے چھوٹ کر اس کے جلال سے معمور ہوگی۔

“لیکن مجھے اپنی حیات کی قسم اور خداوند کے جلال کی قسم جس سے ساری زمین معمور ہوگی” گنتی 14:21)

یہ وعدہ تو انسانی کی مایوسی کا ازالہ کرے گا لیکن ساتھ ہی یہ ایک سوال کی گنجائش بھی پیدا کرے گا

سوال

 جیساکہ گنتی 14:21کے وعدہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم متی 5:5 میں یسوع مسیح کے مبارک بادیوں میں زمین کا ذکر یوں پڑھتے ہیں۔

“مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے”اگر زمین حلیموں کو وراثت میں ملی گی اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا کا جلال ابد تک قائم و دائم رہنے والی ہے۔لیکن ہماری الجھن بڑھتی ہے جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ زمین اور آسمان نے ایک دن ختم ہونا ہے۔اور جل پگھل کر راکھ ہونا ہے اور اپنی بات کی ثبوت کے لئے ہمیں 2پطرس 3:10آیت دکھاتی جاتی ہے۔

“لیکن خداوند کا دن چورکی طرح آجائے گا۔اُس دن آسمان بڑے شوروغُل کے ساتھ بربادہوجائے گا۔اور اجرام فلک حرارت کی شدت سے پگھل جائینگے۔اور زمین اور اُس پر کے کام جل جائینگے (2پطرس3:10) دوسری آیت متی 24:35 میں یوں مرقوم ہے کہ “آسمان اور زمین ٹل جائینگے لیکن میری باتیں ہرگز نہ ہرگز نہ ٹلینگی”

مندرجہ بالاآیات کے بظاہر متصادم نظر آنے کے باوجود ہمارا ایمان ہےکہ خدا کا کلام یکسو،لاخطا ،باہم مربوط اور ہر قسم کی الجھن اور ابہام کو دورکرنے اور قاری کو اطمینان بخشنے کی قدرت رکھتا ہے۔ آئیے پہلے کلام مقدس کی روشنی ہی میں زمین اور آسمان کے ٹلنے اور پگھلنے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی بات کو بڑھاتے ہوئے پطرس بارویں آیت میں یوں رقمطراز ہیں “اور خدا کے اُس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔جس کے باعث آسمان آگ سے پگھل جائینگے اور اجرام فلک حرارت کی شدت سے گل جائینگے۔

واضح رہے ان آیات میں زیادہ زور “خداوند کا دن ” یا ” اُس دن” پر دیا گیا ہے۔ اور پھر “اُس دن ” آنے سے مربوط واقعات میں

آسمان اور زمین کا آگ سے پگھل جانایا حرارت کی شدت سے جل جانا بھی شامل ہے۔ یقینا “اس دن”سے مراد ہمارے خداوند یسوع مسیح کی آمد ثانی اور آگ اور آتش سے مراد عدالت کرنا۔

پولس دوسرے تھسلینیکیوں کے نام اپنے خط میں ایمان داروں کو مصیبت میں صابر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں

” کیونکہ خدا کے نزدیک یہ انصاف ہے کہ بدلہ میں تم پر مصیبت لانے والوں کو مصیبت اور تم مصیبت اٹھانے والوں کو ہمارے ساتھ آرام دے۔جب خداوند یسوع اپنے قوی فرشتوں کے ساتھ بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان پر سے ظاہر ہوگا۔اور جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوع کی خوشخبری کو نہیں مانتے ان سے بدلہ لے گا۔ (2باب کی آیات 6 سے 8)

خداوند یسوع صرف ایک طبقہ اور قوم یا کسی محدود علاقہ اور مملکت کی عدالت کرنے نہیں بلکہ  یسوع کی سلطنت سمندرسے سمندر تک اور دریای فرات سے زمین کی انتہا تک ہوگی (زبور 72:8) اور وہ یعقوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا (لوقا 1:33اور مزید پڑھیں دانی ایل2:44،یعسیاہ 9:7) سب قومیں اس کے سامنے جمع کی جائینگی (متی 25:32)

جیساکہ کلام مقدس میں لکھا ہے کہ یسوع کی سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی اور سب قومیں ان کے سامنے جمع ہوگی اور اس کا اختیار زمین کی انتہا تک ہوگا۔ یہ اختیار اور قدرت ایمان داروں کے لئے حوصلہ اور خوشی جبکہ بے ایمانوں کے لئے ایک بھڑکتی آگ کی مانند ہوگی جو ان کی تمام غرور اور ہستی کو جلا دے گی۔ تو اسی کو پطرس زمین اور آسمان کا جلنا اور پگھلنا کہتا ہے۔ اس میں پطرس کی خیال اور تحریر کی بنیادعہد نامہ عتیق میں یسعیاہ 66:15 آیت ہے جہاں یسعیاہ اپنی پیشن گوئی میں یروشلم کی بحالی اور قوموں سے خدا کی عدالت کا ذکر کرتے ہیں ” دیکھو خداوند آگ کے ساتھ آئے گا۔اس کے رتھ گردباد کی مانند ہوںگے۔تاکہ اپنے قہر کو جوش کے ساتھ اپنی تنبیہ کو آگ کے شعلہ میں ظاہر کرے۔ کیونکہ آگ سے اور اپنی تلوار سے خداوند تمام بنی آدم کا مقابلہ کرے گا اور خداوند کے مقتول بہت سے ہوں گے” اسی پیشن گوئی میں آگے یسعیاہ ہمیں دلاسہ دیتا ہے۔کہ بدی اور بدکار کو نیست کرکے خدا ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنا کر دے گا۔تاکہ وہ خدا کے حضور قائم رہیں اور  انسانی کی نسل اور نام باقی رہے (66:22) لیکن اس سے مطلب ہرگز نہیں کہ حقیقتاَ کہ زمین ختم کردی جائینگی۔بلکہ یہ اس سے گناہ ختم ہوگی تو یہ نئی زمین ہوگی۔ جیسا کہ ایمان داروں کی نئی پیدائش کے متعلق کلام مقدس میں بیان ہے کہ ” نئے سرے سے پیدا ہونا”واقعتاَ کسی نے نئے سرے پیدا ہونا نہیں ہوتا بلکہ اپنی گناہ آلود زندگی سے توبہ کرنا،بپتسمہ لینا اور یسوع کی پیروی میں چلنا۔ 2کرنھتیوں 5:17 میں لکھا ہے اگر کوئی مسیح میں ہے تو نیا مخلوق ہے۔ دیکھو پرانی چیزیں جاتی رہیں اوردیکھو نئی ہوگئی۔اسی طرح روئے زمین سے گناہ کے نیست کئے جانے کے بعد زمین نئی ہوجاتی ہے یہ اس کی نئی پیدائش ہوتی ہے۔پطرس بھی دوسرے خط کے تیسری باب کی 13 آیت میں ہمیں نئی زمین اور آسمان کے انتظار میں شامل کرتے ہوئے لکھتے ہیں

“لیکن اس کے وعدہ کےموافق ہم نئے آسمان اورنئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہی گی۔”

موجودہ زمین اور آسمان (دنیا) میں بدی بسی ہوئی ہے۔جب بدی نیست ہوگی۔ اور راستبازی کی موجودگی کے باعث یہی زمین اور آسمان نئے ہوں گے۔

پیدائش 6:13 میں مرقوم ہے “اور خدا نے نوح سے کہا کہ تمام بشر کا خاتمہ میرے سامنے آ پہنچا ہے۔کیونکہ اس کے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی۔ سو دیکھ میں زمین سمیت ان کو انکو ہلاک کروں گا” لیکن اگلے باب 7:23 میں بتایا گیا ہے کہ “ہر جاندار شے جو زمین پرتھی مرمٹی” زمین کے لفظی طور پر ہلاک ،مرمٹنے یا تباہ ہونے کا کہیں ذکر نہیں۔ اس کا مطلب تھا کہ بدکار مرمٹے اور وہ “زمین” وہ “دور” اور وہ ” زمانہ ” مر مٹی۔اور نہ کہ یہ زمین نیست ہوگی۔کیونکہ کلام مقدس میں بارہا آیا ہے

کہ ایک پشت جاتی ہے اور دوسری پشت آتی ہے لیکن زمین ہمیشہ قائم رہے گی (واعظ 1:4)

تو نے زمین کو اس کی بنیاد پر قائم کیا ہے تاکہ وہ کبھی جنبش نہ کھائے (زبور 104:5)

آسمان تو خداوند کا آسمان ہے لیکن زمین اس نے بنی آدم کو دی ہے (زبور115:16)

کیونکہ جن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے (زبور 37:22)

صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہینگے (زبور 37:29)

کامل لوگوں کی ایام کو خداوند جانتا ہے۔ان کی میراث ہمیشہ کے لئے ہو گی ( زبور 37:18)

اور اسی طرح خدا کے وعدوں کی بنیاد پر خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے اور آخر تک اپنی پہلے اقرار پر مضبوطی سے قائم رہنے سے یسوع کی آمد پر زندگی کا تاج حاصل کرنے اور خداکی بادشاہی میں داخلہ ہونے سے ہم ایک نئی زمین اور نیا آسمان (نئی دنیا) میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین (پہلی دنیا) جا چکی ہوگی۔ اور سمندر (غیرقوام،شریر یسعیاہ 57:20) بھی نہ رہا۔ اور نیا یروشلم آسمان پر سے (خدا سے تعلق اور مکمل فرمان داری،اوپر سے پیدا ہونا یوحنا3:3اور3:31) آئے گا۔

 اوراس وقت زمین آدم کے گناہ کرنے کے زمانہ کی لعنت سے چھوٹے گی۔ “اور پھر لعنت نہ ہوگی۔اور خدا اور برہ کا تخت اس شہر میں ہوگا اور اس کے بندے اس کی عبادت کریں گے۔ اور وہ اس کا منہ دیکھینگے اور اس کا نام ان کے ماتھوں پرلکھا ہوا ہوگا۔ اور پھر رات نہ ہوگی۔ اور وہ چراغ اور روشنی کے محتاج نہ ہوں گےکیونکہ خداوند خدا ان کو روشن کرے گااور وہ ابدالآباد بادشاہی کریں گے (مکاشفہ22:4)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *